مواد پر جائیں مواد پر جائیں
جرنل پر واپس
مضمون

شائقین کی رہنمائی: نو بال اور وائیڈ

کرکٹ میں نو بال اور وائیڈ ایسی گیندیں ہیں جن پر بیٹنگ ٹیم کو کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے، جبکہ گیند قانونی اوور کا حصہ نہیں بنتی۔ بین الاقوامی کرکٹ میں آئی سی سی کے قوانین اور میریلیبون کرکٹ کلب کے....

28 اکتوبر، 2026
شائقین کی رہنمائی: نو بال اور وائیڈ

شائقین کی رہنمائی: نو بال اور وائیڈ

کرکٹ میں نو بال اور وائیڈ ایسی گیندیں ہیں جن پر بیٹنگ ٹیم کو کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے، جبکہ گیند قانونی اوور کا حصہ نہیں بنتی۔ بین الاقوامی کرکٹ میں آئی سی سی کے قوانین اور میریلیبون کرکٹ کلب کے ضابطے فیصلہ کرتے ہیں کہ پاکستان، بھارت، انگلینڈ یا پی ایس ایل کے میچ میں گیند درست تھی یا نہیں۔ نو بال پر عام طور پر ایک اضافی رن، فری ہٹ اور بعض صورتوں میں بیٹر کے رنز بھی شامل ہوتے ہیں؛ وائیڈ پر ایک اضافی رن کے ساتھ گیند دوبارہ کرائی جاتی ہے۔ ایک اوور میں چھ قانونی گیندیں مکمل کرنا ضروری ہے، اس لیے پانچ وائیڈ گیندیں اوور کی گنتی نہیں بڑھاتیں۔ سب سے اہم عملی اصول یہ ہے کہ اسکور بورڈ پر صرف بیٹر کے رنز نہیں، بلکہ اضافی رنز، گیندوں کی تعداد اور امپائر کا اشارہ بھی فوراً دیکھیں۔

Great Rhino · Free demo

کرکٹ میں نو بال اور وائیڈ کو سمجھنا محض قواعد یاد کرنے کا معاملہ نہیں؛ یہ میچ کے متوقع نتیجے، آخری اوور کے دباؤ اور شرط لگانے والے بازاروں میں خطرے کو سمجھنے کا بھی ذریعہ ہے۔ ایک بظاہر معمولی اضافی رن رن ریٹ، ہدف اور جیت کے امکان کو بدل سکتا ہے—اعداد کبھی چھٹی نہیں لیتے، بدقسمتی سے۔ کرکٹ گفتگو، جو میچ جائزوں، کھلاڑیوں کے اعداد، پی ایس ایل کوریج اور بیٹنگ و باؤلنگ حکمت عملی پر توجہ دیتی ہے، اسی لیے ہر فیصلے کو قانون اور اسکورنگ کے تناظر میں دیکھتی ہے۔

پاکستانی کرکٹ گراؤنڈ میں امپائر نو بال کا اشارہ دیتے ہوئے، بیٹر اور وکٹ کیپر توجہ سے دیکھ رہے ہیں

مزید تفصیلی قواعد سمجھنے کے لیے یہ رہنمائی محفوظ کر لیجیے:

مزید جانیں

مرحلہ ۱: نو بال کی شناخت کیسے کریں؟

نو بال وہ غیر قانونی گیند ہے جس میں باؤلر یا فیلڈنگ ٹیم کرکٹ کے مقررہ ضابطے کی خلاف ورزی کرے؛ اس پر کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے اور گیند دوبارہ کرائی جاتی ہے۔ عام مثالوں میں فرنٹ فٹ کا پاپنگ کریز سے آگے نکلنا، کمر سے اوپر خطرناک فل ٹاس، یا محدود اوورز کے مخصوص فیلڈنگ اصول کی خلاف ورزی شامل ہے۔ امپائر عموماً ایک بازو کو کندھے کی سطح پر پھیلا کر نو بال کا اشارہ دیتا ہے، مگر ٹیلی ویژن ری پلے میں فیصلہ بدلنے کی گنجائش بھی ہو سکتی ہے۔

فرنٹ فٹ نو بال سب سے زیادہ عام صورت ہے۔ باؤلر کا اگلا پاؤں کریز کی لکیر کو چھو سکتا ہے، لیکن مکمل طور پر یا اس کے آگے زمین پر نہیں آنا چاہیے؛ یہاں چند سینٹی میٹر بھی پورا نتیجہ بدل سکتے ہیں۔ آئی سی سی کے بین الاقوامی ضوابط میں کمر سے اوپر فل ٹاس کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ بیٹر کی حفاظت بنیادی ترجیح ہے۔ اگر گیند خطرناک انداز میں سر کی اونچائی کے قریب پہنچے تو امپائر اسے نو بال یا دیگر حفاظتی قانون کے تحت دیکھ سکتا ہے، اور مسلسل خلاف ورزی پر باؤلر کو ہٹایا بھی جا سکتا ہے۔

نو بال کی صورتیں مختصراً یہ ہیں:

  1. باؤلر کا اگلا پاؤں پاپنگ کریز سے آگے اترے۔
  2. کمر سے اوپر ایسی فل ٹاس ہو جو خطرناک یا غیر قانونی سمجھی جائے۔
  3. مخصوص فارمیٹ میں فیلڈرز کی مقررہ حد یا پوزیشن کی خلاف ورزی ہو۔
  4. گیند بیٹر کے قریب خطرناک باؤنس یا ممنوعہ انداز میں آئے۔
  5. باؤلر کی ڈلیوری ایکشن یا واپسی کے متعلق ضابطہ متاثر ہو، جس کا فیصلہ میچ حکام کریں۔

یہاں ایک اہم باریک نکتہ ہے: نو بال کا ایک رن اضافی رنز میں شامل ہوتا ہے، مگر اگر بیٹر گیند کو مار کر چار رنز حاصل کرے تو مجموعی اسکور پانچ ہو سکتا ہے۔ گیند قانونی اوور میں شمار نہیں ہوگی، لیکن بیٹر کے بلے سے حاصل کیے گئے رنز اس کے ذاتی اسکور میں شامل ہو سکتے ہیں۔ میریلیبون کرکٹ کلب کے قوانین میں نو بال اور اضافی رنز کی بنیادی تشریحات موجود ہیں، اس لیے بحث کے وقت اندازے کے بجائے اصل قانون دیکھنا زیادہ محفوظ ہے۔

کرکٹ میں فری ہٹ اور پاور پلے کی مکمل وضاحت

مرحلہ ۲: وائیڈ گیند کا فیصلہ کیسے کیا جائے؟

وائیڈ وہ گیند ہے جو بیٹر کے عام اسٹروک کے دائرے سے اتنی باہر ہو کہ وہ معمول کی پوزیشن میں رہتے ہوئے اسے کھیل نہ سکے، بشرطیکہ بیٹر گیند کے راستے کو خود تبدیل نہ کرے۔ اس پر کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے، گیند دوبارہ کرائی جاتی ہے اور اسکور بورڈ پر وائیڈ کے طور پر درج ہوتی ہے۔ تاہم وائیڈ کی چوڑائی ہر جگہ ایک جیسی نہیں ہوتی؛ بیٹر کا قد، کھڑے ہونے کی جگہ، گیند کی رفتار اور حرکت فیصلہ متاثر کر سکتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں، وائیڈ کا فیصلہ صرف پچ کے درمیانی حصے سے گیند کا فاصلہ ناپ کر نہیں کیا جاتا۔ اگر بیٹر آف سائیڈ پر بہت زیادہ باہر کھڑا ہو جائے اور گیند اس کے قریب سے گزرے، تو امپائر اسے لازماً وائیڈ نہیں دے گا؛ ورنہ ہر بیٹر اپنی مرضی سے وائیڈ کی سرحد منتقل کر دیتا، اور کرکٹ پہلے ہی کافی پیچیدہ ہے۔ اسی طرح لیگ سائیڈ کی گیند اگر بیٹر کے جسم سے بہت دور نکلے تو وائیڈ ہو سکتی ہے، مگر بیٹر نے شاٹ کھیلنے کی کوشش میں جسم ہٹایا ہو تو فیصلہ مختلف ہو سکتا ہے۔

وائیڈ اور عام گیند میں فرق سمجھنے کے لیے یہ جدول مدد دیتا ہے:

پہلو وائیڈ گیند قانونی گیند
اضافی رن کم از کم ایک کوئی لازمی اضافی رن نہیں
اوور کی گنتی شمار نہیں ہوتی ایک گیند شمار ہوتی ہے
بیٹر کا رن عموماً وائیڈ اضافی میں شاٹ سے حاصل رن بیٹر کے کھاتے میں
دوبارہ گیند ضروری صرف اگلی معمول کی گیند
امپائر اشارہ دونوں بازو پہلوؤں تک پھیلانا کوئی وائیڈ اشارہ نہیں

وائیڈ پر اگر گیند باؤنڈری تک پہنچ جائے تو عام طور پر پانچ وائیڈ رنز ملتے ہیں: ایک وائیڈ اور باؤنڈری کے چار رنز۔ اگر بیٹر دوڑ کر تین رنز لے اور گیند وائیڈ ہو، تو کل چار وائیڈ رنز درج ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں اضافی رنز کی تفصیل الگ سے چیک کرنا مفید ہے۔

ٹی ٹوئنٹی میچ میں وائیڈ گیند کے بعد اسکور بورڈ پر اضافی رنز نمایاں، تماشائی پُرجوش

قواعد کی مستند زبان کے لیے آئی سی سی کرکٹ قوانین دیکھیں، کیونکہ مقامی ٹورنامنٹس میں وائیڈ کی لائن یا فیلڈنگ پابندیوں کے اطلاق کی تفصیل پہلے سے جاری ضابطے میں لکھی ہو سکتی ہے۔

مرحلہ ۳: نو بال اور وائیڈ میں کیا فرق ہے؟

نو بال اور وائیڈ دونوں غیر قانونی ڈلیوری ہیں، دونوں پر کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے اور دونوں اوور کی چھ قانونی گیندوں میں شامل نہیں ہوتیں؛ بنیادی فرق خلاف ورزی کی نوعیت ہے۔ نو بال عموماً باؤلر کے قدم، خطرناک اونچائی، فیلڈنگ پابندی یا ڈلیوری کے طریقے سے متعلق ہوتی ہے، جبکہ وائیڈ کا مرکز گیند کا بیٹر کی قابلِ رسائی حد سے باہر جانا ہے۔ نو بال پر فری ہٹ مل سکتی ہے، لیکن ہر وائیڈ کے بعد فری ہٹ نہیں ملتی۔

فری ہٹ کی تفصیل فارمیٹ اور مقابلے کے ضابطے سے جڑی ہے۔ محدود اوورز کے بین الاقوامی میچوں میں فرنٹ فٹ نو بال کے بعد اگلی گیند پر بیٹر کو فری ہٹ دی جاتی ہے؛ اگر فری ہٹ والی گیند بھی نو بال یا وائیڈ ہو جائے تو فری ہٹ کا حق اگلی قانونی گیند تک منتقل ہو سکتا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں فری ہٹ کا اطلاق عموماً نہیں ہوتا، اس لیے پاکستان کے ٹیسٹ میچ اور پاکستان سپر لیگ کے ٹی ٹوئنٹی میچ کو ایک ہی اصول سے پڑھنا خطرناک مفروضہ ہے۔

اسکورنگ کی تین مثالیں ذہن میں رکھیں:

  • نو بال، بیٹر نے کوئی شاٹ نہ کھیلا: ایک نو بال رن، ایک اضافی گیند۔
  • نو بال، بیٹر نے چار رنز کا چوکا مارا: مجموعی طور پر پانچ رنز، جن میں چار بیٹر کے ہو سکتے ہیں۔
  • وائیڈ گیند باؤنڈری تک گئی: عموماً پانچ وائیڈ رنز، مگر ریکارڈنگ مقابلے کے ضابطے کے مطابق دیکھی جائے گی۔

قواعد میں نو بال پر بیٹر کے بولڈ ہونے کی صورت بھی بیان کی گئی ہے۔ بیٹر آؤٹ نہیں ہوگا کیونکہ نو بال پر بولڈ قابلِ قبول آؤٹ نہیں، لیکن باؤلر کی گیند کی سمت کے مطابق وائیڈ، بائی یا لیگ بائی کے بجائے نو بال اور دیگر رنز کا حساب ہو سکتا ہے۔ رن آؤٹ، اسٹمپنگ یا کیچ کے کچھ امکانات نو بال پر برقرار رہتے ہیں، لہٰذا “نو بال ہے، کچھ نہیں ہوگا” کہنا ریاضی کے لحاظ سے بھی اور قانون کے لحاظ سے بھی بہت پرامید جملہ ہے۔

فیصلہ اضافی رن اگلی گیند فری ہٹ
نو بال کم از کم ۱ دوبارہ محدود اوورز میں عموماً ہاں
وائیڈ کم از کم ۱ دوبارہ نہیں
بائی نہیں، مگر رنز ممکن قانونی گیند شمار نہیں
لیگ بائی نہیں، مگر رنز ممکن قانونی گیند شمار نہیں

کرکٹ گفتگو کے میچ جائزے میں یہی فرق رن ریٹ کے تجزیے کے لیے بنیادی ہے: نو بال صرف ایک اضافی رن نہیں، ممکنہ فری ہٹ بھی ہے؛ وائیڈ ایک اضافی موقع دیتی ہے، مگر لازماً جارحانہ فائدہ نہیں بناتی۔

مزید عملی مثالیں دیکھنے کے لیے یہ متعلقہ رہنمائی ملاحظہ کریں:

مزید جانیں

مرحلہ ۴: امپائر کا فیصلہ کیسے جانچیں؟

امپائر کا فیصلہ جانچنے کا درست طریقہ پہلے اشارہ، پھر گیند کی قانونی حیثیت، اور آخر میں اسکور بورڈ کی تفصیل دیکھنا ہے۔ نو بال کے لیے ایک بازو پہلو میں افقی انداز میں پھیلایا جاتا ہے، جبکہ وائیڈ کے لیے دونوں بازو کندھوں کی سطح پر پھیلائے جاتے ہیں۔ ٹی وی امپائر دستیاب ہو تو فرنٹ فٹ، کمر کی اونچائی، کیچ اور فیلڈنگ کی پابندیوں کی ری پلے جانچ کی جا سکتی ہے، مگر ہر مقابلے میں نظرِثانی کا دائرہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔

فیصلے کی تصدیق کے لیے یہ پانچ مرحلے اپنائیں:

  1. دیکھیں کہ آن فیلڈ امپائر نے نو بال یا وائیڈ کا اشارہ دیا یا نہیں۔
  2. اسکور بورڈ میں اضافی رنز کی قسم نو بال یا وائیڈ کے طور پر چیک کریں۔
  3. اوور میں قانونی گیندوں کی تعداد گنیں؛ اضافی گیند کے بعد بھی چھ قانونی گیندیں مکمل ہونی چاہییں۔
  4. فری ہٹ کا نشان یا کمنٹری تصدیق کریں، خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی میچ میں۔
  5. مشکوک صورت میں آئی سی سی یا ایم سی سی کے متعلقہ قانون سے تقابل کریں۔

ایک اہم معلوماتی نکتہ یہ ہے کہ اسکور کارڈ میں “اضافی رنز” صرف ایک مجموعی خانہ نہیں ہوتا؛ بائی، لیگ بائی، نو بال اور وائیڈ الگ ذیلی اقسام میں دکھائے جا سکتے ہیں۔ اگر کسی ٹیم کے ۱۸۰ رنز میں ۱۴ اضافی رنز ہوں تو بیٹنگ کی کارکردگی کو صرف مجموعی اسکور سے جانچنا غلط نتیجہ دے سکتا ہے۔ نو بال اور وائیڈ سے ملنے والے اضافی رنز باؤلنگ ڈسپلن کی کمزوری ظاہر کر سکتے ہیں، جبکہ بائی یا لیگ بائی فیلڈنگ اور وکٹ کیپنگ کی الگ تصویر پیش کرتے ہیں۔

آئی سی سی کے محدود اوورز کے قواعد میں فری ہٹ کا تصور بیٹر کو نو بال کی سزا کے بعد اضافی تحفظ دیتا ہے، مگر فری ہٹ پر بیٹر ہر طرح کے آؤٹ سے محفوظ نہیں ہوتا۔ رن آؤٹ، اسٹمپنگ یا ہینڈلڈ دی بال جیسے مخصوص معاملات قانون کے اندر الگ جانچے جاتے ہیں۔ لارڈز کے ایم سی سی قوانین اس نکتے کو واضح کرتے ہیں کہ ایک ہی ڈلیوری پر کئی ممکنہ واقعات کو الگ الگ قانونی ترتیب میں دیکھنا چاہیے۔

کرکٹ اسکور کارڈ پڑھنے کا آسان طریقہ

ٹی وی امپائر روم میں متعدد ری پلے اسکرینوں پر فرنٹ فٹ نو بال کا فیصلہ زیرِغور

مرحلہ ۵: تصدیق اور عملی چیک لسٹ

نو بال اور وائیڈ کی درست تصدیق کے لیے ایک ہی ذریعہ کافی نہیں؛ امپائر اشارہ، گیندوں کی گنتی، اضافی رنز اور مقابلے کے مخصوص ضابطے کو ملا کر دیکھنا چاہیے۔ یہ خاص طور پر ۲۰۲۶ کے مختصر فارمیٹ مقابلوں، پی ایس ایل، آئی پی ایل اور آئی سی سی ٹورنامنٹس میں اہم ہے، جہاں فری ہٹ، فیلڈنگ پابندی اور نظرِثانی کے اصول میچ کی نوعیت کے مطابق مختلف اثر ڈال سکتے ہیں۔ معتبر اسکور کارڈ میں اوور کی چھ قانونی گیندیں، وائیڈ، نو بال اور فری ہٹ کی صورتحال الگ سمجھنے کا موقع دیتی ہیں۔

فیصلہ محفوظ کرنے سے پہلے یہ چیک لسٹ استعمال کریں:

  • کیا باؤلر کا اگلا پاؤں پاپنگ کریز سے آگے گیا؟
  • کیا گیند کمر سے اوپر فل ٹاس تھی؟
  • کیا بیٹر کی پوزیشن بدلنے سے وائیڈ کا فیصلہ متاثر ہوا؟
  • کیا گیند بیٹر کے عام کھیلنے کے دائرے سے باہر گئی؟
  • کیا اضافی رن نو بال یا وائیڈ کے خانے میں درج ہے؟
  • کیا اوور میں چھ قانونی گیندیں مکمل ہوئیں؟
  • کیا محدود اوورز کے ضابطے کے تحت فری ہٹ بنتی ہے؟
  • کیا مقامی مقابلے نے کوئی اضافی شرط پہلے سے جاری کی ہے؟

اعداد کے اعتبار سے ایک نو بال کا کم از کم اثر ایک رن اور ایک اضافی گیند ہے، مگر متوقع اثر اس سے بڑا ہو سکتا ہے۔ اگر آخری دو اوورز میں ۲۴ رنز درکار ہوں اور نو بال کے ساتھ فری ہٹ مل جائے، تو بیٹنگ ٹیم کو ایک اضافی موقع، نئی گیند اور ممکنہ باؤنڈری کا امکان ملتا ہے۔ دوسری طرف وائیڈ ہدف کو ایک رن کم اور گیندوں کو دوبارہ ترتیب دیتی ہے، لیکن فری ہٹ نہیں دیتی۔ اسی لیے صرف “اضافی رن” دیکھنا ناکافی ہے؛ رن ریٹ، باقی گیندیں اور وکٹوں کی تعداد بھی شامل کریں۔

کسی بھی میچ کے تجزیے یا کھیل سے متعلق فیصلے میں سرکاری اسکور کارڈ کو بنیادی حوالہ بنائیں۔ غیر مصدقہ کمنٹری، مختصر ویڈیو یا سوشل میڈیا پوسٹ کو آخری ثبوت سمجھنا خطرناک ہے، کیونکہ ایک فریم میں پاؤں کریز پر نظر آ سکتا ہے جبکہ اگلے فریم میں حقیقت مختلف ہو۔ “قانونی گیند” کا فیصلہ جذبات سے نہیں، مکمل ویڈیو اور ضابطے سے کیا جاتا ہے—اور یہ اصول تقریباً ہر بحث کو چند ڈیسی بل کم کر دیتا ہے۔

پی ایس ایل میچ کے اعداد و شمار اور رن ریٹ کا تجزیہ

قواعد کی مزید تصدیق کے لیے آئی سی سی کی سرکاری ویب سائٹ اور ای ایس پی این کرک انفو کے اسکور کارڈز سے رجوع کریں۔ سرکاری ضابطہ، معتبر اسکور کارڈ اور امپائر کا اشارہ ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہوں تو فیصلہ قابلِ اعتماد سمجھا جا سکتا ہے۔

عام غلطیوں کا حل

نو بال اور وائیڈ سمجھنے میں سب سے عام غلطی یہ ہے کہ ناظر صرف گیند کی جگہ دیکھتا ہے اور بیٹر کی پوزیشن، فارمیٹ یا ڈلیوری کی قانونی حیثیت نظرانداز کر دیتا ہے۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ وائیڈ کو ہمیشہ ایک رن سمجھا جاتا ہے، حالانکہ باؤنڈری یا دوڑ سے یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔ تیسری غلطی اسکور بورڈ کی مجموعی اضافی رنز کی لائن کو دیکھ کر نو بال اور وائیڈ میں فرق نہ کرنا ہے؛ یہ فرق باؤلر کی کارکردگی کے تجزیے میں خاصا اہم ہوتا ہے۔

اگر فیصلہ مشکوک ہو تو مسئلہ حل کرنے کا یہ طریقہ اپنائیں:

  1. پہلے ڈلیوری کا فارمیٹ طے کریں: ٹیسٹ، ایک روزہ، ٹی ٹوئنٹی یا مقامی مقابلہ۔
  2. آن فیلڈ امپائر کا ابتدائی اشارہ نوٹ کریں۔
  3. فرنٹ فٹ، کمر کی اونچائی اور گیند کی سمت الگ الگ دیکھیں۔
  4. بیٹر کے شاٹ یا جسمانی حرکت کو وائیڈ کے فیصلے کے ساتھ ملائیں۔
  5. اسکور کارڈ میں اضافی رنز کی ذیلی قسم تلاش کریں۔
  6. فری ہٹ صرف اسی وقت مانیں جب ضابطہ اور کمنٹری دونوں تصدیق کریں۔

“ہر باہر جاتی گیند وائیڈ ہے” ایک عام مگر غلط مفروضہ ہے۔ اگر بیٹر پہلے ہی آف سائیڈ کی طرف بہت زیادہ منتقل ہو گیا ہو، تو امپائر گیند کے اصل کھیلنے کے دائرے کو بیٹر کی نئی پوزیشن کے مطابق دیکھ سکتا ہے۔ اسی طرح “ہر اونچی گیند نو بال ہے” بھی درست نہیں؛ گیند کی اونچائی، بیٹر کی کریز میں جگہ، رفتار اور خطرناک ہونے کی سطح مل کر فیصلہ بناتے ہیں۔ امپائرنگ میں صفر یا ایک کی سادہ تقسیم کم ہی کام آتی ہے؛ حالات کا احتمال بھی حساب میں آتا ہے۔

ایک اور عملی مسئلہ لائیو اسکور کی تاخیر ہے۔ بعض ایپس پہلے مجموعی رن دکھاتی ہیں اور چند سیکنڈ بعد نو بال یا وائیڈ کا لیبل اپ ڈیٹ کرتی ہیں۔ اگر آپ میچ کا تجزیہ کر رہے ہوں تو کم از کم دو معتبر ذرائع—مثلاً سرکاری اسکور کارڈ اور ٹی وی کمنٹری—ملا کر دیکھیں۔ کرکٹ گفتگو کی حکمت عملی پر مبنی کوریج میں بھی یہی ترتیب مفید ہے: پہلے قانون، پھر واقعہ، پھر نتیجہ؛ الٹا کرنے سے رائے پہلے اور ثبوت بعد میں آتا ہے، جو اعداد و شمار کے لیے ایک نہایت مہنگی عادت ہے۔

اگر آپ قوانین کی مختصر یادداشت چاہتے ہیں تو اسے یہاں سے دیکھیں:

مزید جانیں

نتیجہ

کرکٹ میں نو بال اور وائیڈ دونوں غیر قانونی گیندیں ہیں، مگر نو بال باؤلر کی قدم، اونچائی یا فیلڈنگ خلاف ورزی سے جڑی ہوتی ہے، جبکہ وائیڈ بیٹر کے قابلِ رسائی کھیلنے کے دائرے سے باہر گیند جانے کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ دونوں پر کم از کم ایک اضافی رن اور دوبارہ گیند ہوتی ہے، لیکن محدود اوورز کی نو بال پر عموماً فری ہٹ بھی ملتی ہے۔ درست فیصلہ کرنے کے لیے امپائر اشارہ، فارمیٹ، اسکور کارڈ، قانونی گیندوں کی تعداد اور ایم سی سی یا آئی سی سی کے ضابطے کو ایک ساتھ دیکھیں۔ کسی بھی میچ، پی ایس ایل مقابلے یا ۲۰۲۶ کے ٹی ٹوئنٹی تجزیے میں یہی پانچ عناصر سب سے قابلِ اعتماد بنیاد ہیں۔

آج ہی نو بال، وائیڈ، فری ہٹ اور اضافی رنز کے فرق کو اپنے اسکور کارڈ کے ساتھ ملا کر دیکھیے:

مزید جانیں

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: کرکٹ میں نو بال کیا ہوتی ہے؟

جواب: نو بال ایسی غیر قانونی گیند ہے جس پر بیٹنگ ٹیم کو کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے اور گیند دوبارہ کرائی جاتی ہے۔ عام وجوہات میں باؤلر کا اگلا پاؤں پاپنگ کریز سے آگے رکھنا، کمر سے اوپر خطرناک فل ٹاس اور مخصوص فیلڈنگ پابندی کی خلاف ورزی شامل ہیں۔ محدود اوورز میں فرنٹ فٹ نو بال کے بعد اگلی گیند عموماً فری ہٹ ہوتی ہے۔ نو بال پر بیٹر کے بلے سے حاصل کیے گئے رنز الگ سے اس کے اسکور میں شامل ہو سکتے ہیں۔

سوال: وائیڈ گیند کیسے پہچانی جاتی ہے؟

جواب: وائیڈ وہ گیند ہے جو بیٹر کے عام اسٹروک کے دائرے سے باہر ہو اور بیٹر نے اس کا راستہ خود نہ بدلا ہو۔ اس پر کم از کم ایک وائیڈ رن ملتا ہے، گیند اوور میں شمار نہیں ہوتی اور دوبارہ کرائی جاتی ہے۔ بیٹر کی کھڑے ہونے کی جگہ، قد، جسمانی حرکت اور مقابلے کے ضابطے فیصلے پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے ہر آف سائیڈ یا لیگ سائیڈ سے باہر جاتی گیند خودکار طور پر وائیڈ نہیں ہوتی۔

سوال: نو بال اور وائیڈ میں بنیادی فرق کیا ہے؟

جواب: نو بال باؤلر یا فیلڈنگ ٹیم کی قانونی خلاف ورزی ہے، جبکہ وائیڈ گیند بیٹر کے قابلِ رسائی کھیلنے کے دائرے سے باہر جانے کی وجہ سے دی جاتی ہے۔ دونوں پر کم از کم ایک اضافی رن اور اضافی گیند ہوتی ہے، مگر محدود اوورز میں نو بال کے بعد عموماً فری ہٹ بھی ملتی ہے۔ وائیڈ کے بعد فری ہٹ نہیں ملتی۔ اسی فرق کی وجہ سے نو بال باؤلنگ کی غلطی کے طور پر زیادہ بڑا ممکنہ نقصان پیدا کر سکتی ہے۔

سوال: نو بال پر فری ہٹ کب ملتی ہے؟

جواب: محدود اوورز کے بین الاقوامی اور کئی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں فرنٹ فٹ نو بال کے بعد اگلی گیند پر فری ہٹ ملتی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں فری ہٹ کا اصول عموماً لاگو نہیں ہوتا، جبکہ مقامی ٹورنامنٹ اپنے قواعد جاری کر سکتا ہے۔ اگر فری ہٹ والی گیند دوبارہ نو بال یا وائیڈ ہو جائے تو فری ہٹ اگلی قانونی گیند تک برقرار رہ سکتی ہے۔ حتمی فیصلہ میچ کے پہلے سے جاری ضابطے اور امپائرنگ نظام کے مطابق کیا جاتا ہے۔

سوال: نو بال پر بیٹر کون کون سے طریقوں سے آؤٹ ہو سکتا ہے؟

جواب: نو بال پر بیٹر بولڈ، ایل بی ڈبلیو، کیچ یا اسٹمپنگ سے آؤٹ نہیں ہوتا، مگر رن آؤٹ، بعض حالات میں اسٹمپنگ کی قانونی صورت، ہٹ وکٹ یا فیلڈ میں رکاوٹ جیسے امکانات باقی رہ سکتے ہیں۔ نو بال کے قانون میں آؤٹ ہونے کی اجازت صرف چند مخصوص طریقوں تک محدود رہتی ہے۔ اگر گیند پر بیٹر نے رن لینے کی کوشش کی اور وکٹ گرا دی گئی تو رن آؤٹ کا فیصلہ الگ جانچا جائے گا۔ اسی لیے نو بال کو مکمل حفاظتی ڈلیوری سمجھنا درست نہیں۔

سوال: وائیڈ پر کتنے رنز مل سکتے ہیں؟

جواب: وائیڈ پر کم از کم ایک رن ملتا ہے، مگر باؤنڈری یا دوڑ کی صورت میں مجموعہ بڑھ سکتا ہے۔ اگر وائیڈ گیند باؤنڈری تک پہنچ جائے تو عام طور پر پانچ وائیڈ رنز درج ہوتے ہیں، جبکہ بیٹر اور نان اسٹرائیکر رن لے کر تعداد مزید بڑھا سکتے ہیں۔ اسکور کارڈ میں یہ رنز وائیڈ کے ذیلی خانے میں دکھائے جاتے ہیں۔ وائیڈ گیند اوور کی چھ قانونی گیندوں میں شمار نہیں ہوتی، اس لیے باؤلر کو دوبارہ گیند کرنی پڑتی ہے۔

سوال: نو بال یا وائیڈ کا غلط فیصلہ لگے تو کیا کیا جائے؟

جواب: پہلے امپائر کا اشارہ، پھر ٹی وی ری پلے، اور آخر میں سرکاری اسکور کارڈ یا میچ ضابطہ چیک کریں۔ فرنٹ فٹ نو بال کے لیے باؤلر کے اگلے پاؤں کی پوزیشن، جبکہ وائیڈ کے لیے بیٹر کی پوزیشن اور گیند کا قابلِ رسائی دائرہ دیکھیں۔ لائیو اسکور میں تاخیر ممکن ہے، اس لیے ایک ہی لمحاتی اسکرین پر انحصار نہ کریں۔ آئی سی سی، ایم سی سی یا متعلقہ ٹورنامنٹ کے سرکاری قواعد حتمی حوالہ فراہم کرتے ہیں۔

پڑھنے کے لیے شکریہ۔ ہمیں امید ہے کہ آپ نے یہ مضمون ذہنیت والا اور متاثر کن پایا۔

متعلقہ مضامین